27 فروری 2011 - 20:30

قذافی کی نرسیں ان کی محافظ خواتین، ان کی جنسی بیراہرویوں کی داستانیں اور ان کی وسیع بدعنوانیاں زبانزد عام و خاص ہیں۔

پاکستان سمیت کئی ممالک میں دہشت گردوں کی ماں بننے والی سیاسی ـ مذہبی جماعتوں کو قذافی کی مالی امداد بھی کوئی خفیہ بات نہیں ہے اور لیبیا میں سعودی شہزادے کے عقیدتمند سلفیوں کے ساتھ ان کا سمجھوتہ بھی بالکل سامنے ہے۔  سابق فلیپینی آمر کی بدنام بیوہ کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات اور آج سے تیس سال قبل منیلا میں ایک مہینے کے مختصر عرصے میں قائم ہونے والی مسجد کی داستان بھی کوئی خفیہ بات نہیں ہے۔

5 ارب ڈالر اور ڈیڑہ ٹن سونے کے چور زین عابدین بن علی، مسجدالاقصی اور بیت المقدس سمیت پوری اسلامی دنیا کو اسرائیل کے ہاتھ بیچنے والے 70 ارب ڈالر کے چور فرعون مصر حسنی مبارک، تخت اقتدار سے خاک اضطرار پر گرائے جاچکے ہیں؛ 80 ارب ڈالر کے چور یہودی النسل قذافی، پوری بحرینی دولت سمیٹنے والے ناروا فرمانروا حمد بن عیسی آل خلیفہ، 33 برسوں سے یمن کی ہڈیوں کا مغز چوسنے والے علی عبداللہ صالح، اور کئی دیگر عرب لٹیرے آمر یا بادشاہ بہت جلد سرنگون ہونے والے ہیں۔ تیل اور گیس کی دولت لوٹنے والوں کی حکمرانی کے دن گنے جاچکے ہیں، قوموں کی خودمختاری کا سودا کرکے برسراقتدار آنے والے اور اقتدار میں رہ جانے والوں کے ایام بسر ہوگئے ہیں۔ یہ وہ دور ہے کہ ایران میں انقلاب اسلامی کے 32 برس پورے ہوچکے ہیں جبکہ عرب دنیا میں انقلاب کا پیغام پہنچنے کی تیس برس پورے ہوگئے ہیں اور انقلاب اسلامی کے پیغام کے ساتھ پروان چڑھنے والے عرب نوجوان آج انقلابات کی قیادت کررہے ہیں۔  کسی زمانی میں اسرائیل کا نعرہ "نیل تا فرات" سنا جاتا تھا جو انقلاب اسلامی کی وجہ سے ناکام ہوگیا اور اس کے بعد بش (Father) نے "نیوورلڈ آرڈر" کے ضمن میں اس نعرے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جو پھر بھی انقلاب اسلامی کے سامنے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ بش (سن) نے نیل تا فرات کو "گریٹر مڈل ایسٹ" کے منصوبے کے ضمن میں عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جس پر عملدرآمد 2006 میں لبنان پر اسرائیلی حملے کی صورت میں شروع ہوا لیکن انقلاب اسلامی کے فرزند ارجمند "حزب اللہ" نے گریٹر مڈل ایسٹ کے پہلے قدم کو ناکام بنایا. 2008 میں صہیونیت کا حوصلہ بڑھانے کی نیت سے عرصہ دراز سے قلعہ بند غزہ پر اسرائیل نے حملہ کیا اور رجعت پسند اور بکے ہوئے عرب حکمرانوں اور ان کا راستہ صاف کرنے والے وہابی مفتیون نے دامے درمے سخنے اس اسرائیلی کوشش کی زبردست حمایت کی لیکن انقلاب اسلامی کی تعلیمات پر کاربند حماس اور جہاد اسلامی نے اس حملے کوبھی ناکام بنایا جبکہ اس زمانے میں امریکہ اور اسرائیل کے حامی تمام عرب حکمران اقتدار کے مزے لوٹ رہے تھے تا ہم اب وہ زمانہ بھی گذر گیا ہے چنانچہ رہبر مسلمین حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی الخامنہ ای کی پیشین گوئی صحیح ہوتی نظر آرہی ہے اور یہ زمانہ امریکی/ صہیونی / یورپی گریٹر مڈل ایسٹ کا خواب چکنا چور ہوکر خطے میں "اسلامی مشرق وسطی" کا زمانہ ہے۔ علاقہ مغرب اور صہیونیت کے کٹھ پتلیوں سے آزاد ہورہا ہے، عالم اسلام کا عالمی امن بڑھ رہا ہے اور فطری امر ہے کہ اب عالم اسلام کے دشمنوں کے امن کی سطح گررہی ہے، صہیونیت کی عمر گھٹ رہی ہے۔ بیدار رہنے کی ضرورت ہی دھوکا کہا کر عشروں تک غلام رہنے والی قوموں کے لئے۔ کہ کہیں دوبارہ دوسری شکلوں میں غلامی کی زنجیروں میں گرفتار نہ آئیں۔

..................

/110